میری آنکھوں میں جو یہ خواب پڑے رہتے ہیں
میری آنکھوں میں جو یہ خواب پڑے رہتے ہیں
یونہی چپ-چاپ تہہ آب پڑے رہتے ہیں
چھوڑ کر جاتے پرندوں نے مجھے سمجھایا
خشک ہوتے ہوئے تالاب پڑے رہتے ہیں
اس لیے گھاؤ زیادہ ہیں مرے سینے پہ
دشمنوں میں مرے احباب بڑے رہتے ہیں
خواہش دست حنائی دل ناداں میں لیے
جھونپڑوں میں کئی مہتاب پڑے رہتے ہیں
یار نحریرؔ کہاں اب وہ مکمل ہوں گے
نا مکمل جو رہیں باب پڑے رہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.