ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نکلا
ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نکلا
وہی سورج کہ جو ڈوبا تھا دوبارہ نکلا
ظلمت شب سے ہوا دن کا تصور ممکن
یہ اندھیرا تو اجالے کا سہارا نکلا
تو کہ تھا بزم میں تصویر کم آمیزی کی
میری تنہائی میں کیوں انجمن آرا نکلا
میں ترے قرب سے ڈرتا ہوں کہ تو زندہ رہے
میں سمندر میں جب اترا تو کنارا نکلا
وقت نے جب بھی مرے ہاتھ سے مشعل چھینی
ذہن میں تیرے تصور کا ستارا نکلا
جانے یہ کرب ہے دوری کا کہ مٹی کا طلسم
سطح دریا پہ تو مہتاب دوبارا نکلا
اپنی ہستی کو مٹانے کا نتیجہ یہ ہے
پھول توڑا تو مرے خون کا دھارا نکلا
نفسی نفسی بھی وہی سچ کی دہائی بھی وہی
تیرا محشر مرا مانوس نظارا نکلا
اب تو پتھر کے زمانے سے نکل آؤ ندیمؔ
اب تو سوچوں کے تصادم سے شرارہ نکلا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.