ہر گھڑی کار محبت میں فغاں ہونا تھا
ہر گھڑی کار محبت میں فغاں ہونا تھا
اشک بن کر مجھے آنکھوں سے رواں ہونا تھا
عشق زادوں سے کہاں کار جہاں ہونا تھا
ہو بھی جاتا تو سلیقے سے کہاں ہونا تھا
کیا خبر تھی کہ یہ چوپال اجڑ جائے گی
ایک قصہ تو ابھی اور بیاں ہونا تھا
آگ نفرت کی لگائی ہے ہمیشہ تم نے
ایک دن شہر کی گلیوں کو دھواں ہونا تھا
حضرت شیخ انہیں سوئے حرم لے آئے
مے کدے جا کے جنہیں پیر مغاں ہونا تھا
اپنی قسمت میں نہیں تھا کہ سحر کرتے ہم
ہم چراغوں کو سر شام دھواں ہونا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.