حال دل شعر میں لاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
حال دل شعر میں لاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
تیری تصویر بناتے ہوئے رو پڑتی ہوں
باندھ رکھا ہے تری یاد کے پہلو سے یہ دل
دشت میں ریت اڑاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
اب تو کہتی ہوں تعلق ہی نہیں تجھ سے مرا
اب تو یہ راز چھپاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
دل کی حالت کسی بچے کی طرح ہوتی ہے
آسماں سر پہ اٹھاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
کتنے شعروں میں تراشا تھا تجھے اپنے لیے
کتنی غزلوں کو جلاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
تیری قسمت کا ستارہ تھا ہتھیلی میں مری
اب لکیروں کو ملاتے ہوئے رو پڑتی ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.