غم کرے دور کوئی کس کس کا
غم کرے دور کوئی کس کس کا
حال خستہ ہے ساری مجلس کا
کون رخصت ہوا ہے گلشن سے
چہرہ اترا ہوا ہے نرگس کا
بیٹھ کے در پہ ایک مدت سے
راستہ دیکھتا ہے تو کس کا
بھول بیٹھا تجھے وہ عرصہ ہوا
انتظار اب بھی ہے تجھے جس کا
مجھ سے نظریں چرا رہے ہیں وہی
ساتھ میں نے دیا ہے جس جس کا
عیب سے اپنے با خبر وہ کہاں
عیب جو ڈھونڈتا ہو جس تس کا
خود کو کہتے ہیں میرؔ و غالبؔ سب
نام گنوائے شمسؔ کس کس کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.