غم عاشقی میں ہوں مبتلا مجھے زندگی سے گلہ نہیں
غم عاشقی میں ہوں مبتلا مجھے زندگی سے گلہ نہیں
یہ مرض تو مجھ کو عزیز ہے مجھے آرزوئے شفا نہیں
کہوں کیا تجھے مرے ہم نشیں مرا عشق ہے مری زندگی
مری جستجو مری آرزو مرا خواب اس کے سوا نہیں
تو کہاں چلا مرے ہم سفر مجھے چھوڑ کر مرے حال پر
ذرا رک تو جا مجھے یہ بتا کہ تجھے بھی مجھ سے وفا نہیں
مرے دل کے ساز کو چھیڑ کر سر راہ یوں مجھے چھوڑ کر
بھلا کون تھا وہ کدھر گیا کوئی نقش اس کا ملا نہیں
غم ہجر سے میں ہوں آشنا مجھے آرزوئے وصال ہے
یہ علاج اور یہ معالجہ مرے درد کی تو دوا نہیں
یہ مقام سود و زیاں ہے کیا یہاں ذکر دل کا فضول ہے
یہ تو بے وفاؤں کا شہر ہے یہاں کوئی اہل وفا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.