Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غم عاشقی میں ہوں مبتلا مجھے زندگی سے گلہ نہیں

ثقلین مشتاق

غم عاشقی میں ہوں مبتلا مجھے زندگی سے گلہ نہیں

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    غم عاشقی میں ہوں مبتلا مجھے زندگی سے گلہ نہیں

    یہ مرض تو مجھ کو عزیز ہے مجھے آرزوئے شفا نہیں

    کہوں کیا تجھے مرے ہم نشیں مرا عشق ہے مری زندگی

    مری جستجو مری آرزو مرا خواب اس کے سوا نہیں

    تو کہاں چلا مرے ہم سفر مجھے چھوڑ کر مرے حال پر

    ذرا رک تو جا مجھے یہ بتا کہ تجھے بھی مجھ سے وفا نہیں

    مرے دل کے ساز کو چھیڑ کر سر راہ یوں مجھے چھوڑ کر

    بھلا کون تھا وہ کدھر گیا کوئی نقش اس کا ملا نہیں

    غم ہجر سے میں ہوں آشنا مجھے آرزوئے وصال ہے

    یہ علاج اور یہ معالجہ مرے درد کی تو دوا نہیں

    یہ مقام سود و زیاں ہے کیا یہاں ذکر دل کا فضول ہے

    یہ تو بے وفاؤں کا شہر ہے یہاں کوئی اہل وفا نہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے