فرقت کے دنوں میں تم جب ہم کو بھلا دینا
فرقت کے دنوں میں تم جب ہم کو بھلا دینا
چہرے سے پشیمانی لازم ہے مٹا دینا
جذبات مرے رکھ لو تم خواب مرے رکھ لو
جب خط کو جلانا تم ان کو بھی جلا دینا
پانی کے سفر میں جب طوفان قریب آئے
دریا کو کہانی تب موسیٰ کی سنا دینا
جب کچھ نہ سمجھ آئے ہوتی ہے عبادت کیا
تب تشنہ پرندوں کو پانی ہی پلا دینا
بچے جو اگر پوچھیں ہوتی ہے محبت کیا
تب میرؔ کے ان کو تم اشعار سنا دینا
محتاط ہیں وہ کتنے عماؔن ذرا دیکھو
خود آگ لگا کر کے کہتے ہیں بجھا دینا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.