Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے

نورین فیض آبادی

دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے

نورین فیض آبادی

MORE BYنورین فیض آبادی

    دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے

    اک عجب رنگ تری زلف گرہ گیر کا ہے

    ایک عالم پہ اثر کرتی ہیں باتیں میری

    شعر گوئی تو فریضہ مری تقدیر کا ہے

    شہر ادراک میں تسلیم کیا جاتا ہے

    جو ہے مقبول جہاں میں وہ بیاں میر کا ہے

    میں نے کل خواب میں دیکھا تھا تمہارا چہرا

    مسئلہ خواب نہیں خواب کی تعبیر کا ہے

    عقل کا کام ہے یہ عقل ہی کر سکتی ہے

    مرحلہ سامنے تیرے تری تدبیر کا ہے

    دل کی وارفتگی امید در یار کا خواب

    کیا پتہ آپ کو یہ سلسلہ تعمیر کا ہے

    وہ کہیں بھی رہے واپس تو یہیں آئے گا

    رہنے والا وہ اسی خانۂ دلگیر کا ہے

    آپ جس شعر کو سن کر ہیں فسردہ نورینؔ

    رنج کس بات کا نوحہ مری تقدیر کا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے