دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے
دل گرفتار بلا ہجر کی زنجیر کا ہے
اک عجب رنگ تری زلف گرہ گیر کا ہے
ایک عالم پہ اثر کرتی ہیں باتیں میری
شعر گوئی تو فریضہ مری تقدیر کا ہے
شہر ادراک میں تسلیم کیا جاتا ہے
جو ہے مقبول جہاں میں وہ بیاں میر کا ہے
میں نے کل خواب میں دیکھا تھا تمہارا چہرا
مسئلہ خواب نہیں خواب کی تعبیر کا ہے
عقل کا کام ہے یہ عقل ہی کر سکتی ہے
مرحلہ سامنے تیرے تری تدبیر کا ہے
دل کی وارفتگی امید در یار کا خواب
کیا پتہ آپ کو یہ سلسلہ تعمیر کا ہے
وہ کہیں بھی رہے واپس تو یہیں آئے گا
رہنے والا وہ اسی خانۂ دلگیر کا ہے
آپ جس شعر کو سن کر ہیں فسردہ نورینؔ
رنج کس بات کا نوحہ مری تقدیر کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.