Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

پروین شاکر

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

    حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

    بھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہ

    راتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ

    کیوں جان پہ بن آئی ہے بگڑا ہے اگر وہ

    اس کی تو یہ عادت کہ ہواؤں سے لڑے وہ

    الفاظ تھے اس کے کہ بہاروں کے پیامات

    خوشبو سی برسنے لگی یوں پھول جھڑے وہ

    ہر شخص تجھے مجھ سے جدا کرنے کا خواہاں

    سن پائے اگر ایک تو دس جا کے جڑے وہ

    بچے کی طرح چاند کو چھونے کی تمنا

    دل کو کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ

    طوفاں ہے تو کیا غم مجھے آواز تو دیجے

    کیا بھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے