بار دگر غزل کی زمیں دیکھیے حضور
بار دگر غزل کی زمیں دیکھیے حضور
جب جب ہمارا قلب حزیں دیکھیے حضور
ان کی نگاہ کشف کا جادو سمیٹیے
وہ بس جدھر دکھائیں وہیں دیکھیے حضور
مطلوب ہے سکون دل زار کی جگہ
دیر و حرم سے ہٹ کے کہیں دیکھیے حضور
میرے تمام خواب ہیں آنکھوں میں منجمد
خالی ہتھیلیوں کو نہیں دیکھیے حضور
کہتے تھے یہ مکان اسی لا مکاں کا ہے
جب بن گیا مکاں تو مکیں دیکھیے حضور
حیدرؔ ہوس کو عشق کی چادر میں ڈھانپ کر
پھرتا ہے بن کے پردہ نشیں دیکھیے حضور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.