اب کہاں ہم کسی سے ڈرتے ہیں
اب کہاں ہم کسی سے ڈرتے ہیں
ہاں مگر عاشقی سے ڈرتے ہیں
اس قدر جرم کر چکے ہیں ہم
ان کے در حاضری سے ڈرتے ہیں
جانے والوں کا غم نہیں ہم کو
ان کی اب واپسی سے ڈرتے ہیں
ان سے ملنا تو چاہتے ہیں پر
لوگوں کی بد ظنی سے ڈرتے ہیں
جانے کس وقت گل کھلائے کیا
اس لیے سامری سے ڈرتے ہیں
عشق سے سعدیؔ یہ ہوا معلوم
لوگ کیوں ہر کسی سے ڈرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.