وہ آنکھیں خوبصورت ہیں وہ چہرہ خوبصورت ہے
وہ آنکھیں خوبصورت ہیں وہ چہرہ خوبصورت ہے
اسے دیکھا تو جانا یہ کہ دنیا خوبصورت ہے
کریں تو ہم کریں کیسے بیاں اس کے بیانوں کا
ہے شیریں گفتگو اس کی وہ لہجہ خوبصورت ہے
جبیں روشن ہے روشن عارض و گلفام و لب اس کے
کہوں کیا کیا بھلا تم سے وہ کتنا خوبصورت ہے
حیا بھی ہے نگاہوں میں ادائیں بھی بلا کی ہیں
اور اس پر برق نظروں کا اشارہ خوبصورت ہے
بجا مشتاقؔ بے حد خوبصورت ہیں جہاں والے
کسے دیکھوں مگر اب کون تجھ سا خوبصورت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.