آنکھوں سے اپنے خون بہاتا ہے کس طرح
آنکھوں سے اپنے خون بہاتا ہے کس طرح
تو راز اپنے غم کا چھپاتا ہے کس طرح
سچ بولنے کا حوصلہ آتا ہے کس طرح
جھوٹوں کے بیچ سچ تو بچاتا ہے کس طرح
تجھ میں کہاں سے آئی یہ ہمت ذرا بتا
ہر فکر تو دھوئیں میں اڑاتا ہے کس طرح
دنیا کی گردشوں میں جو رہتا ہے بے نیاز
وہ زیست خوشگوار بناتا ہے کس طرح
شملہؔ یہ زندگی بھی عجب امتحان ہے
ہر درد کو تو ہنس کے نبھاتا ہے کس طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.