Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

محمد علوی

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

محمد علوی

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

دکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں

پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئے

پھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں

گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤں

ہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں

کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائے

قلم اٹھاؤں تو کاغذ کو پھیلتا دیکھوں

اتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیص

بدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں

وہیں کہیں نہ پڑی ہو تمنا جینے کی

پھر ایک بار انہیں جنگلوں میں جا دیکھوں

وہ روز شام کو علویؔ ادھر سے جاتی ہے

تو کیا میں آج اسے اپنے گھر بلا دیکھوں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے