کہیں پہ یادوں نے ہاتھ تھاما کہیں عبادت سے دل سنبھالا
کہیں پہ یادوں نے ہاتھ تھاما کہیں عبادت سے دل سنبھالا
تمہاری ہجرت کے بعد ہم نے بڑی مشقت سے دل سنبھالا
نہیں ہے ایسا جہاں میں کوئی کہ جس کو دل میں بسائیں گے پھر
جو ملنے والے نہیں تھے ہم نے انہیں کی چاہت سے دل سنبھالا
جو جانے والے تھے جا چکے ہیں دل حزیں کو یہ غم بڑا ہے
جو تم نہیں تھے تو غیر آئے اور ان کی صحبت سے دل سنبھالا
گماں نہیں تھا ہمیں قسم سے رہیں گے زندہ بنا تمہارے
سکوں ہمارا تمہی تھے جاناں تمہاری نسبت سے دل سنبھالا
ہمارا ملنا نہیں تھا ممکن یہ دل تو الماسؔ جانتا تھا
مگر تمہارے ہی خواب دیکھے تمہاری حسرت سے دل سنبھالا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.