گفتگوئے لب و رخسار سے آگے نہ بڑھے
گفتگوئے لب و رخسار سے آگے نہ بڑھے
اہل دل عشق کے اظہار سے آگے نہ بڑھے
یہ ہمیں تھے کہ بھرم آپ کا رکھا ہم نے
ہم کبھی حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھے
جانے کیا سوچ کے دیوانوں نے یلغار نہ کی
بڑھتے بڑھتے تری دیوار سے آگے نہ بڑھے
دامن شام و سحر ہاتھ نہ آیا اب تک
راہ رو وقت کی رفتار سے آگے نہ بڑھے
آپ سے بھی بہت امید ہمیں تھی مضطرؔ
آپ بھی کوچۂ دل دار سے آگے نہ بڑھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.