فکر تازہ سے بھی وہ طرز پرانی مانگے
فکر تازہ سے بھی وہ طرز پرانی مانگے
منتشر ذہن سے مربوط کہانی مانگے
پیاس اتنی ہے کہ چبھتے ہیں زباں میں کانٹے
اس کا یہ حکم یہاں کوئی نہ پانی مانگے
اب کوئی ترک طلب کے نہ بہانے ڈھونڈے
بے زباں ہو تو نگاہوں کی زبانی مانگے
توسن عمر کڑی دھوپ کی جانب دوڑے
دل وہی بیتی ہوئی شام سہانی مانگے
ہو چکی کاوش پرواز تخیل کیا کیا
آدمی چاند سے اب قرب مکانی مانگے
ہائے اب منت نقاد اٹھائے شاعر
اپنے الفاظ کے اوروں سے معانی مانگے
دل سا موتی بھی اسے سونپ دیا ہے انورؔ
اور وہ مجھ سے محبت کی نشانی مانگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.