اپنی مثال آپ ہے یہ تجزیہ مرا
اپنی مثال آپ ہے یہ تجزیہ مرا
چہرے تمام اس کے ہیں اور آئنہ مرا
بے نام حسرتوں کی یہاں اڑ رہی ہے خاک
اک دشت آرزو ہے دل مبتلا مرا
ناول کے بس کی بات نہیں داستاں مری
اک نظم باندھ لے گی مگر واقعہ مرا
تعبیر کی طلب نے کیا منہدم مجھے
خوابوں کی ٹوٹ پھوٹ میں تھا ارتقا مرا
سب کو تلاش جس کی ہے منزل تو ہے وہی
سب سے ہی مختلف ہے مگر راستہ مرا
راہ فرار تک نہ ملے گی مجھے کہیں
خود سے اگر پڑا جو کبھی واسطہ مرا
تکمیل فن کے نام پہ مٹتا رہا ہوں میں
نقصان دہ رہا ہے مجھے فائدہ مرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.