اگر آج تم نہ آتے عجب اضطرار ہوتا
اگر آج تم نہ آتے عجب اضطرار ہوتا
کچھ اسی کے دل سے پوچھو جسے انتظار ہوتا
اگر ان کے آگے درد جگر ایک بار ہوتا
جو ہزار بار کہتا انہیں اعتبار ہوتا
چمن دیار غربت نہ بہار پر ہوں نازاں
ابھی پھولوں سے ملاتا جو وطن کا خار ہوتا
انہیں ایسی کب غرض تھی مجھے عاشقوں میں گنتے
میں کسی حساب میں تھا جو مرا شمار ہوتا
مری قبر پر جو آئے تو وہ ہاتھ مل کے بولے
سر گور ڈال دیتے جو گلے میں ہار ہوتا
کبھی بعد مدت آئے تو یہ طعنہ دے کے بولے
یہی ان کی شکل رہتی اگر انتظار ہوتا
دل مضطرب سے پارا اگر آ کے بحث کرتا
نہ اسے سکون ہوتا نہ اسے قرار ہوتا
مرے حلق سے زیادہ کہیں خشک ہے وہ خنجر
دم ذبح پیاس بجھتی اگر آبدار ہوتا
انہیں ایک بار اگر ہم کسی حیلے سے بلاتے
جو دوبارہ مر بھی جاتے تو نہ اعتبار ہوتا
سر شمع کس نے کاٹا مرے شعلہ رو کے آگے
ابھی ظلم سیکھ جاتا جو وہ ہوشیار ہوتا
جو دل اس نے آپؐ مانگا رہی بات شکر کیجے
وہ بہ جبر چھین لیتا تو کچھ اختیار ہوتا
نہ خفا ہو رخ کا بوسہ جو لیا سمجھ کے قرآں
کہ اگر ادب نہ کرتا تو گناہ گار ہوتا
پڑی خاک غیر آ کر تو نہ دامنوں کو جھٹکا
ابھی تیوریاں چڑھاتے جو مرا غبار ہوتا
مرے دل پہ کرکے قبضہ ہے جگر کا بھی تقاضا
جو وہ ایک لے کے دیتے تو کچھ اعتبار ہوتا
مری لاش پر وہ آئے تو یہ مسکرا کے بولے
کہ نہ آنکھ بند ہوتی اگر انتظار ہوتا
پس مرگ بھی نہ حاتم کبھی چھوڑتا سخاوت
جو شجر لحد سے اگتا تو وہ میوہ دار ہوتا
گرے آہ کھا کے ٹھوکر وہ رقیب کی لحد پر
عجب آج حشر ہوتا جو مرا مزار ہوتا
فن عاشقی میں رہتے نہ کہیں کے بھی فصاحتؔ
اگر اور مثل دل کے کوئی دوست دار ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.