Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

ہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے

ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار

ہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے

یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے

افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے

اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرنا

جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے

کچھ مہر قیامت ہے نہ کچھ نار جہنم

ہشیار کہ وہ قہر و غضب اور ہی کچھ ہے

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی

دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

بیہودہ سری سجدے میں ہے جان کھپانا

آئین محبت میں ادب اور ہی کچھ ہے

کیا حسن کے انداز تغافل کی شکایت

پیمان وفا عشق کا جب اور ہی کچھ ہے

دنیا کو جگا دے جو عدم کو بھی سلا دے

سنتے ہیں کہ وہ روز وہ شب اور ہی کچھ ہے

آنکھوں نے فراقؔ آج نہ پوچھو جو دکھایا

جو کچھ نظر آتا ہے وہ سب اور ہی کچھ ہے

RECITATIONS

خالد مبشر

خالد مبشر,

00:00/00:00
خالد مبشر

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے خالد مبشر

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے