جراحتوں کا ہے موسم نظر جھکا کے چلو
جراحتوں کا ہے موسم نظر جھکا کے چلو
ہیں شعلہ شعلہ یہ رستے قدم بچا کے چلو
چراغ بجھ گئے سارے بڑا اندھیرا ہے
ان آندھیوں میں کوئی زخم ہی جلا کے چلو
شکستہ جام پہ تاریخ مے کدہ ہے ثبت
یہ ٹکڑے بادہ کشو سینے سے لگا کے چلو
نہیں ہیں عارض و لب ہی تو شوق کی منزل
رہ طلب میں طلب کے دیے بجھا کے چلو
میں اپنی آگ میں جلتا ہوا جہنم ہوں
مرے قریب سے دامن ذرا بچا کے چلو
اندھیرے بڑھتے ہی جاتے ہیں غم کی راہوں میں
چراغ درد کی لو اور کچھ بڑھا کے چلو
نہ جانے قافلے کتنے ادھر سے گزریں ابھی
کوئی شرارہ کہیں راکھ میں دبا کے چلو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.