Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جراحتوں کا ہے موسم نظر جھکا کے چلو

عبد الحفیظ نعیمی

جراحتوں کا ہے موسم نظر جھکا کے چلو

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    جراحتوں کا ہے موسم نظر جھکا کے چلو

    ہیں شعلہ شعلہ یہ رستے قدم بچا کے چلو

    چراغ بجھ گئے سارے بڑا اندھیرا ہے

    ان آندھیوں میں کوئی زخم ہی جلا کے چلو

    شکستہ جام پہ تاریخ مے کدہ ہے ثبت

    یہ ٹکڑے بادہ کشو سینے سے لگا کے چلو

    نہیں ہیں عارض و لب ہی تو شوق کی منزل

    رہ طلب میں طلب کے دیے بجھا کے چلو

    میں اپنی آگ میں جلتا ہوا جہنم ہوں

    مرے قریب سے دامن ذرا بچا کے چلو

    اندھیرے بڑھتے ہی جاتے ہیں غم کی راہوں میں

    چراغ درد کی لو اور کچھ بڑھا کے چلو

    نہ جانے قافلے کتنے ادھر سے گزریں ابھی

    کوئی شرارہ کہیں راکھ میں دبا کے چلو

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے