میرے خوابوں کا جو گھر تھا وہ کھنڈر لگتا ہے
میرے خوابوں کا جو گھر تھا وہ کھنڈر لگتا ہے
لگ گئی دیکھنے والے کی نظر لگتا ہے
منفرد ہیں یہ مہکتے ہوئے الفاظ کے پھول
اس کی باتوں میں بزرگوں کا اثر لگتا ہے
گوشۂ ذہن میں افکار کا وارد ہونا
موم سے جسم میں اک رقص شرر لگتا ہے
بد گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر چند انہیں
صاف دامن بھی مرا خون سے تر لگتا ہے
اپنی باتوں کی صفائی میں کہی باتوں سے
پھر نئی بات نہ نکلے مجھے ڈر لگتا ہے
میرے قصے انہی بکھرے ہوئے ملبوں سے سنو
میرے بچپن کا یہ چھوٹا ہوا گھر لگتا ہے
رہ بدل لیتا ہوں میں حال کوئی پوچھ نہ لے
جانا پہچانا ہوا کوئی اگر لگتا ہے
کتنا بچ بچ کے چلوں راہ زماں میں رازیؔ
یوں تو ہر گام پہ امکان خطر لگتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.