Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میرے خوابوں کا جو گھر تھا وہ کھنڈر لگتا ہے

رازی ابوذر

میرے خوابوں کا جو گھر تھا وہ کھنڈر لگتا ہے

رازی ابوذر

MORE BYرازی ابوذر

    میرے خوابوں کا جو گھر تھا وہ کھنڈر لگتا ہے

    لگ گئی دیکھنے والے کی نظر لگتا ہے

    منفرد ہیں یہ مہکتے ہوئے الفاظ کے پھول

    اس کی باتوں میں بزرگوں کا اثر لگتا ہے

    گوشۂ ذہن میں افکار کا وارد ہونا

    موم سے جسم میں اک رقص شرر لگتا ہے

    بد گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر چند انہیں

    صاف دامن بھی مرا خون سے تر لگتا ہے

    اپنی باتوں کی صفائی میں کہی باتوں سے

    پھر نئی بات نہ نکلے مجھے ڈر لگتا ہے

    میرے قصے انہی بکھرے ہوئے ملبوں سے سنو

    میرے بچپن کا یہ چھوٹا ہوا گھر لگتا ہے

    رہ بدل لیتا ہوں میں حال کوئی پوچھ نہ لے

    جانا پہچانا ہوا کوئی اگر لگتا ہے

    کتنا بچ بچ کے چلوں راہ زماں میں رازیؔ

    یوں تو ہر گام پہ امکان خطر لگتا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے