Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے (ردیف .. ی)

گوہر رضا

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے (ردیف .. ی)

گوہر رضا

MORE BYگوہر رضا

    یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے

    خطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گی

    جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے

    اندھی وطن پرستی ہم کو اس رستے لے جائے گی

    اندھے کنویں میں جھوٹ کی ناؤ تیز چلی تھی مان لیا

    لیکن باہر روشن دنیا تم سے سچ بلوائے گی

    نفرت میں جو پلے بڑھے ہیں نفرت میں جو کھیلے ہیں

    نفرت دیکھو آگے آگے ان سے کیا کروائے گی

    فنکاروں سے پوچھ رہے ہو کیوں لوٹائے ہیں سمان

    پوچھو کتنے چپ بیٹھے ہیں شرم انہیں کب آئے گی

    یہ مت کھاؤ وہ مت پہنو عشق تو بالکل کرنا مت

    دیش دروہ کی چھاپ تمہارے اوپر بھی لگ جائے گی

    یہ مت بھولو اگلی نسلیں روشن شعلہ ہوتی ہیں

    آگ کریدو گے چنگاری دامن تک تو آئے گی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے