کوئی دل دے تو وہ ٹھکرانے کا نئیں
کوئی دل دے تو وہ ٹھکرانے کا نئیں
مشورہ ہے دھوکہ بھی کھانے کا نئیں
یہ جہاں تم کو مبارک ہو میاں
اس جہاں سے کام دیوانے کا نئیں
لاکھ دنیا عشق سے بیزار ہو
عاشقوں کو پھر بھی اکتانے کا نئیں
توبہ کر کے سب گنہ مٹوا بھی دو
نام اس کا دل سے مٹوانے کا نئیں
ایک تتلی نے یہ مجھ سے کہہ دیا
پھول کے آگے غزل گانے کا نئیں
وصل ہو آنکھوں میں ہی تم ڈوبنا
گیسوؤں میں دل کو الجھانے کا نئیں
جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ خواب
دل مجھے دوبارہ بہکانے کا نئیں
اپنی امیدوں کو گروی رکھ دیا
اب خدارا مجھ کو تڑپانے کا نئیں
اس کی یادوں کی زمیں میں قبر ہو
میرے کو مٹی میں دفنانے کا نئیں
زندگی میں تجھ سے واقف ہو گیا
اب میں تیرے جال میں آنے کا نئیں
خون سے آنکھیں مری آلود ہیں
زندگی ماضی کو دہرانے کا نئیں
آخری حد تک اسے چاہوں گا میں
ارقمؔ اب کچھ اور فرمانے کا نئیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.