عشق پر اعتبار ہم نے کیا
عشق پر اعتبار ہم نے کیا
شہر کا پہلا پیار ہم نے کیا
پوچھتا کون تھا تجھے الفت
تجھ پہ جاں دل نثار ہم نے کیا
ہم سلیقہ شعار کافر ہیں
ناز بھی اختیار ہم نے کیا
لو لگانے کا فلسفہ کب تھا
سانس تک کا شمار ہم نے کیا
خود مسیحا میں حوصلہ تھا کہاں
زخم دل تار تار ہم نے کیا
تھا گنہ خود سے باندھنا خود کا
جرم یہ بار بار ہم نے کیا
اپنے پائے کے ہم ہی فاطرؔ تھے
خود پہ ہر بار وار ہم نے کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.