رقص کرتے ہوئے دیوانے چلے آتے ہیں
رقص کرتے ہوئے دیوانے چلے آتے ہیں
شمع جلتی ہے تو پروانے چلے آتے ہیں
باغباں ہم ترے گلشن میں گھڑی بھر کے لئے
دل بیتاب کو بہلانے چلے آتے ہیں
ہم کہاں اور کہاں حضرت ناصح اے دل
جانے کیا سوچ کے سمجھانے چلے آتے ہیں
ہم جہاں پہنچے وہیں بڑھ کے قدم لینے کو
خاک اڑاتے ہوئے ویرانے چلے آتے ہیں
یوں بھی عنوان بدلتی ہے محبت مضطرؔ
نوک مژگاں پہ بھی افسانے چلے آتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.