برباد ساری رونقیں دیوانے کر گئے
برباد ساری رونقیں دیوانے کر گئے
بے نور ہر چراغ کو پروانے کر گئے
ٹوٹے دلوں کو صحرا نے آباد کر دیا
گلشن جو کر سکے نہ وہ ویرانے کر گئے
اپنوں سے ہم کرم کی لگائے رہے امید
احسان دل کی دنیا پہ انجانے کر گئے
جن کے مکین غرق تھے جام شراب میں
ویران ان مکانوں کو میخانے کر گئے
دشمن نہ جس کو روک سکے تھے کبھی ملاذؔ
خاموش اس زبان کو یارانے کر گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.