بند کمرے میں نہ گھٹ جائے کہیں دم لوگو
بند کمرے میں نہ گھٹ جائے کہیں دم لوگو
کم سے کم کوئی دریچہ ہی کہیں سے کھولو
کوئی تحریک تو ابھرے کوئی ہلچل تو ہو
کوئی پتھر کسی جانب سے ادھر بھی پھینکو
حرف نا گفتہ ہوں اک روز مجھے بھی تو پڑھو
میرے سائے کو مرا کھویا ہوا چہرہ دو
حادثے وقت کے ہر موڑ پہ ہیں آوارہ
اس طرح شہر میں گھر کانچ کا لے کر نہ پھرو
جانے کیا ہے کہ وہ جذبات نہیں سینوں میں
ورنہ میں بھی ہوں وہی اور وہی تم بھی ہو
کتنے لمحوں کا تعفن ہے مرے اندر بھی
مجھ کو دیکھو مرے ماتھے کی لکیروں کو پڑھو
دھوپ تنہائی کی ایمنؔ ہے ابھی تیز بہت
ٹوٹتے سائے میں یادوں کے ذرا دم لے لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.