اداسیوں کو وہ ایسے کمال دیتا ہے
اداسیوں کو وہ ایسے کمال دیتا ہے
غم حیات کو غزلوں میں ڈھال دیتا ہے
وہ جب بھی لکھتا ہے سچائیوں کے افسانے
تو کاغذوں سے بھی خوشبو نکال دیتا ہے
بیان کرتا ہے جب میکدے کے بارے میں
کئی شریفوں کی پگڑی اچھال دیتا ہے
چراغ لے کے نکلتا ہے جب وہ ہاتھوں پر
تو آفتاب کو مشکل میں ڈال دیتا ہے
ثمرؔ کہیں جو وفاؤں کی بات آ جائے
زمانہ اب بھی ہماری مثال دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.