Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قدم قدم پہ نئے امتحان میں آیا

مضطر اعظمی

قدم قدم پہ نئے امتحان میں آیا

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    قدم قدم پہ نئے امتحان میں آیا

    مگر کہاں میں مسلسل تھکان میں آیا

    زمیں بھی آسماں اس کو دکھائی دینے لگی

    پرندہ جب کبھی اونچی اڑان میں آیا

    نہ چھوڑ ہاتھ سے عزم و یقین کا تیشہ

    شگاف دیکھ کہاں تک چٹان میں آیا

    غموں کی دھوپ میں برسوں جلا ہوں تب جا کر

    میں گیسوؤں کے حسیں سائبان میں آیا

    گئے دنوں کی تلافی وہ چاہتا تھا مگر

    نکل کے تیر نہ واپس کمان میں آیا

    گیا ہے جب سے نکل کر وہ خانۂ دل سے

    نہ کوئی دوسرا رہنے مکان میں آیا

    سلام کرتے ہیں جھک کر یہ حادثے مجھ کو

    میں جب سے اپنے خدا کی امان میں آیا

    کچھ اتنے تیز تھے جھونکے ہوا کے اے مضطرؔ

    غبار اڑتا ہوا مرتبان میں آیا

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے