قدم قدم پہ نئے امتحان میں آیا
قدم قدم پہ نئے امتحان میں آیا
مگر کہاں میں مسلسل تھکان میں آیا
زمیں بھی آسماں اس کو دکھائی دینے لگی
پرندہ جب کبھی اونچی اڑان میں آیا
نہ چھوڑ ہاتھ سے عزم و یقین کا تیشہ
شگاف دیکھ کہاں تک چٹان میں آیا
غموں کی دھوپ میں برسوں جلا ہوں تب جا کر
میں گیسوؤں کے حسیں سائبان میں آیا
گئے دنوں کی تلافی وہ چاہتا تھا مگر
نکل کے تیر نہ واپس کمان میں آیا
گیا ہے جب سے نکل کر وہ خانۂ دل سے
نہ کوئی دوسرا رہنے مکان میں آیا
سلام کرتے ہیں جھک کر یہ حادثے مجھ کو
میں جب سے اپنے خدا کی امان میں آیا
کچھ اتنے تیز تھے جھونکے ہوا کے اے مضطرؔ
غبار اڑتا ہوا مرتبان میں آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.