پھر نگاہ یار برہم ہو گئی
پھر نگاہ یار برہم ہو گئی
زندگی کی چشم پرنم ہو گئی
کیسے پوچھوں کیا تمہارے دل میں ہے
قوت گویائی بے دم ہو گئی
ہے متاع زیست مجھ کو تیرا غم
تیری ہر اک یاد ہم دم ہو گئی
لاکھ کوشش کی مگر یہ زندگی
ان کی زلفوں کی طرح خم ہو گئی
پڑ گئی جو ان کی چشم مہرباں
برق بھی دم بھر میں شبنم ہو گئی
ایک کالی رات کے سائے گھنے
اس پہ یہ تنہائی پیہم ہو گئی
میکدے سے دور میکشؔ ہو گئے
ان کی مے نوشی بھی تو کم ہو گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.