کچھ وقت اس کے سامنے میں کیا دکھی رہا
کچھ وقت اس کے سامنے میں کیا دکھی رہا
وہ شخص اس کے بعد ہمیشہ دکھی رہا
دونوں نے ساتھ مل کے مکمل کیا فراق
آدھا اداس میں تھا وہ آدھا دکھی رہا
اک شخص آئنے میں ہے ایسا بھی واقعی
جو میرے غم میں مجھ سے زیادہ دکھی رہا
اللہ تجھ کو وصل میں اتنا ہی خوش رکھے
فیضانؔ تیرے ہجر میں جتنا دکھی رہا
بس دو عمل کیے ہیں ترے ہجر میں حسین
محفل میں یا تو شعر پڑھا یا دکھی رہا
اک عمر ہنس کے کاٹ دی لیکن پھر ایک بار
مجھ کو پتا چلا وہ دکھی تھا دکھی رہا
شدت دکھوں کی دیکھ کے کہنے لگا طبیب
مر جائے گا جو اس سے زیادہ دکھی رہا
عرصے کے بعد اس کو بدل کر عمرؔ کیا
پہلے پہل تو نام بھی میرا دکھی رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.