Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ وقت اس کے سامنے میں کیا دکھی رہا

فیضان عمر

کچھ وقت اس کے سامنے میں کیا دکھی رہا

فیضان عمر

MORE BYفیضان عمر

    کچھ وقت اس کے سامنے میں کیا دکھی رہا

    وہ شخص اس کے بعد ہمیشہ دکھی رہا

    دونوں نے ساتھ مل کے مکمل کیا فراق

    آدھا اداس میں تھا وہ آدھا دکھی رہا

    اک شخص آئنے میں ہے ایسا بھی واقعی

    جو میرے غم میں مجھ سے زیادہ دکھی رہا

    اللہ تجھ کو وصل میں اتنا ہی خوش رکھے

    فیضانؔ تیرے ہجر میں جتنا دکھی رہا

    بس دو عمل کیے ہیں ترے ہجر میں حسین

    محفل میں یا تو شعر پڑھا یا دکھی رہا

    اک عمر ہنس کے کاٹ دی لیکن پھر ایک بار

    مجھ کو پتا چلا وہ دکھی تھا دکھی رہا

    شدت دکھوں کی دیکھ کے کہنے لگا طبیب

    مر جائے گا جو اس سے زیادہ دکھی رہا

    عرصے کے بعد اس کو بدل کر عمرؔ کیا

    پہلے پہل تو نام بھی میرا دکھی رہا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے