کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہے
کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہے
کہیں پر بانجھ ہے خطہ عجب دل کی کیاری ہے
لگا رکھا ہے سینے میں جو اک نخل غم جاناں
اسی کے سائے میں ہم نے رہ ہستی گزاری ہے
ستارے آنکھ سے نکلیں تو بن جاتے ہیں جگنو سے
نگار آتش دل سے ہی جگ مگ دنیا ساری ہے
گھٹائیں جھومتی ہوں یا ہوائیں رقص کرتی ہوں
قفس والوں کی قسمت میں وہی اک گریہ زاری ہے
قفس میں بھی صبا سے پوچھتے ہیں حال گلشن کا
وفا کی یہ روایت قید میں بھی ہم کو پیاری ہے
مثال رنگ و بو گھلتی ہی جاتی ہوں ہواؤں میں
نوید وصل آئی ہے کہ موسم کی خماری ہے
فضا میں نکہت گل ہے فلک پر چاند ہے روشن
سواد ہجر میں بھی اک تماشائے بہاری ہے
یہ مٹی سبز ہے صولتؔ تمہاری چشم گریاں سے
کہ غم کی خاک میں بھی زندگی کی آبیاری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.