Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہے

صولت بانو

کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہے

صولت بانو

MORE BYصولت بانو

    کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہے

    کہیں پر بانجھ ہے خطہ عجب دل کی کیاری ہے

    لگا رکھا ہے سینے میں جو اک نخل غم جاناں

    اسی کے سائے میں ہم نے رہ ہستی گزاری ہے

    ستارے آنکھ سے نکلیں تو بن جاتے ہیں جگنو سے

    نگار آتش دل سے ہی جگ مگ دنیا ساری ہے

    گھٹائیں جھومتی ہوں یا ہوائیں رقص کرتی ہوں

    قفس والوں کی قسمت میں وہی اک گریہ زاری ہے

    قفس میں بھی صبا سے پوچھتے ہیں حال گلشن کا

    وفا کی یہ روایت قید میں بھی ہم کو پیاری ہے

    مثال رنگ و بو گھلتی ہی جاتی ہوں ہواؤں میں

    نوید وصل آئی ہے کہ موسم کی خماری ہے

    فضا میں نکہت گل ہے فلک پر چاند ہے روشن

    سواد ہجر میں بھی اک تماشائے بہاری ہے

    یہ مٹی سبز ہے صولتؔ تمہاری چشم گریاں سے

    کہ غم کی خاک میں بھی زندگی کی آبیاری ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے