اس مطلبی جہان میں اپنا نہیں ملا
اس مطلبی جہان میں اپنا نہیں ملا
غم تو ملے غموں کا مداوا نہیں ملا
جانب سے تیری کوئی اشارہ نہیں ملا
سو زندگی کو کوئی سہارا نہیں ملا
تنہائیوں کا دشت تھا کچھ اتنا خوفناک
اپنے وجود کا مجھے سایہ نہیں ملا
اتنی طویل ہو گئی یہ زندگی کی راہ
پھر لوٹنے کا کوئی بھی رستہ نہیں ملا
لوگوں کا اک ہجوم تھا مطلب کے واسطے
چاہے جو دل سے ایک بھی ایسا نہیں ملا
دامن بھرا تھا خوشیوں سے دونوں جہان کی
ہم کو بس ایک ساتھ تمہارا نہیں ملا
الماسؔ شاعری تو بہت کی گئی مگر
لیکن کسی کو میرؔ سا رتبہ نہیں ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.