ہر لمحہ دئے جاتے ہیں غم دیکھ رہا ہوں
ہر لمحہ دئے جاتے ہیں غم دیکھ رہا ہوں
اپنوں کے یہ انداز کرم دیکھ رہا ہوں
سب چاند ستاروں کی طرف دوڑ رہے ہیں
چھپ چھپ کے میں بس اپنا صنم دیکھ رہا ہوں
ہنستے ہوئے یہ کہنا کہ پہچانا نہیں ہے
ٹوٹا ہے مرا کیسے بھرم دیکھ رہا ہوں
سچ بولنے والے سے سبھی توڑ کے رشتے
جھوٹے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ رہا ہوں
لگتا ہے کہ اب عشق مکمل ہوا میرا
ہوتا ہوا سر اپنا قلم دیکھ رہا ہوں
آنا انہیں ہوتا تو نظامؔ آ گئے ہوتے
سینے سے نکلتا ہوا دم دیکھ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.