غم کا طوفاں گزر نہیں جاتا
غم کا طوفاں گزر نہیں جاتا
دل کا دریا اتر نہیں جاتا
عمر گزری تو یہ کھلا کہ کوئی
لاکھ تنہا ہو مر نہیں جاتا
شہر رکھتا ہے اس کو آوارہ
وہ سر شام گھر نہیں جاتا
کس کو دیکھا کہ آج تک دل سے
خواب جیسا اثر نہیں جاتا
اس کے بند قبا کے کھلتے ہی
حسن کیا کیا نکھر نہیں جاتا
راہ سے جیسے ہو نشاں نہ الگ
سر سے یہ زخم سر نہیں جاتا
وقت کا سیل ہی مقدر ہے
کوئی لمحہ ٹھہر نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.