دل پہ اک بوجھ ہے اور ہے یہ بہت بھاری بھی
دل پہ اک بوجھ ہے اور ہے یہ بہت بھاری بھی
موت کا شوق ہے اور کچھ نہیں تیاری بھی
کوئی دشمن تو کوئی دوست سمجھ لیتا ہے
صاف گوئی میں ہے آسانی بھی دشواری بھی
ہو نہیں پاتا ہے صحرا کا سمندر سے ملن
آنکھ رہتی ہے کبھی خشک کبھی جاری بھی
مت ہنسا کر کسی مجبور کی مجبوری پر
کل کو آ جائے گی نادان تری باری بھی
ایسا دکھ بھی کبھی میں شعر میں لے آتا ہوں
دل سے محسوس کرے جس کو مرا قاری بھی
بولتے بولتے رویا تو کہا اپنوں نے
داستاں خوب ہے اچھی ہے اداکاری بھی
لطف و عظمت بھی ہے محنت کی کمائی میں وقیعؔ
بھیک تو ساتھ ہی لے جاتی ہے خودداری بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.