دیکھنا ہے کہ مجھے کون کہاں کھینچتا ہے
دیکھنا ہے کہ مجھے کون کہاں کھینچتا ہے
ہے ادھر عشق ادھر مجھ کو جہاں کھینچتا ہے
جب سے معشوق کی کھڑکی پہ کھنچا ہے پردہ
تب سے عاشق ہے کہ سگریٹ سے دھواں کھینچتا ہے
ہم پہ برسے ہوئے تیروں کا کرے کون انصاف
اب تو سنتے ہیں کہ منصف بھی کماں کھینچتا ہے
بے وفا کہہ دے اگر اس کو شب ہجراں میں
ہاتھ میرا ہی مرے دل کی زباں کھینچتا ہے
تیر کے ساتھ ہی کھینچا ہے مرا دل باہر
تیر سینے سے کوئی ایسے کہاں کھینچتا ہے
اشک بہتے نہ اگر غم سے یہ دل پھٹ جاتا
رنج و غم دل سے یہی آب رواں کھینچتا ہے
ہے یقیں مجھ کو تجھے عشق نہیں ہے مجھ سے
کیا مجھے تیری طرف کوئی گماں کھینچتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.