Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیکھنا ہے کہ مجھے کون کہاں کھینچتا ہے

حنیف دانش اندوری

دیکھنا ہے کہ مجھے کون کہاں کھینچتا ہے

حنیف دانش اندوری

MORE BYحنیف دانش اندوری

    دیکھنا ہے کہ مجھے کون کہاں کھینچتا ہے

    ہے ادھر عشق ادھر مجھ کو جہاں کھینچتا ہے

    جب سے معشوق کی کھڑکی پہ کھنچا ہے پردہ

    تب سے عاشق ہے کہ سگریٹ سے دھواں کھینچتا ہے

    ہم پہ برسے ہوئے تیروں کا کرے کون انصاف

    اب تو سنتے ہیں کہ منصف بھی کماں کھینچتا ہے

    بے وفا کہہ دے اگر اس کو شب ہجراں میں

    ہاتھ میرا ہی مرے دل کی زباں کھینچتا ہے

    تیر کے ساتھ ہی کھینچا ہے مرا دل باہر

    تیر سینے سے کوئی ایسے کہاں کھینچتا ہے

    اشک بہتے نہ اگر غم سے یہ دل پھٹ جاتا

    رنج و غم دل سے یہی آب رواں کھینچتا ہے

    ہے یقیں مجھ کو تجھے عشق نہیں ہے مجھ سے

    کیا مجھے تیری طرف کوئی گماں کھینچتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے