اگر اے نا خدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
اگر اے نا خدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
ادھر کشتی نہ لے جانا وہاں پانی بہت کم ہے
نہ جانے کیوں مری افسردگی کا اب یہ عالم ہے
کہ میں ہنستا ہوں خود پر اور وہ بادیدۂ نم ہے
اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تو صبر ہو جاتا
کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے
مجھے حق گوئی کی ضد ہے اسی باعث زمانے میں
جسے بھی دیکھیے وہ آج مجھ سے سخت برہم ہے
تمہاری پیش قدمی اک حقیقت ہے مگر راہیؔ
ابھی کچھ اور تیزی سے بڑھو رفتار مدھم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.