Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا

پروین شاکر

آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا

    چشم صدف سے گوہر نایاب لے گیا

    طوفان ابر و باد میں سب گیت کھو گئے

    جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا

    کچھ ناخدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا

    کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

    اس شہر خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ

    کس غم زدہ کا گریۂ خوناب لے گیا

    واں شہر ڈوب ڈوب گئے اور ادھر یہ بحث

    خم لے گیا ہے یا خم محراب لے گیا

    کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں

    شاید انہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

    غیروں کی دشمنی نے نہ مارا مگر ہمیں

    اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا

    اے آنکھ اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ

    مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے