آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا
آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا
چشم صدف سے گوہر نایاب لے گیا
طوفان ابر و باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا
کچھ ناخدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا
کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا
اس شہر خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ
کس غم زدہ کا گریۂ خوناب لے گیا
واں شہر ڈوب ڈوب گئے اور ادھر یہ بحث
خم لے گیا ہے یا خم محراب لے گیا
کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید انہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا
غیروں کی دشمنی نے نہ مارا مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا
اے آنکھ اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.