آنکھ میں کب سے مقید تھا یہ پالا ہوا اشک
آنکھ میں کب سے مقید تھا یہ پالا ہوا اشک
جیسے مدت سے ہو تقدیر کا ٹالا ہوا اشک
کھا لئے آنکھ نے دانے جو غم گندم کے
ایسے ہی خلد سے ہو ایک نکالا ہوا اشک
اس کی یادوں کو لئے پھرتا رہا برسوں تک
آنکھ سے گر نہ سکا اور یہ چھالا ہوا اشک
یوں تو معمول ہے اشکوں کی لڑی بن جانا
جب ذرا دیر سے ٹپکا تو نرالا ہوا اشک
تہہ میں رہ جاتا تو کنکر کے سوا ہوتا کیا
آنکھ کی جھیل سے ابھرا تو یہ بالا ہوا اشک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.