Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ میں کب سے مقید تھا یہ پالا ہوا اشک

سہیل نقش

آنکھ میں کب سے مقید تھا یہ پالا ہوا اشک

سہیل نقش

MORE BYسہیل نقش

    آنکھ میں کب سے مقید تھا یہ پالا ہوا اشک

    جیسے مدت سے ہو تقدیر کا ٹالا ہوا اشک

    کھا لئے آنکھ نے دانے جو غم گندم کے

    ایسے ہی خلد سے ہو ایک نکالا ہوا اشک

    اس کی یادوں کو لئے پھرتا رہا برسوں تک

    آنکھ سے گر نہ سکا اور یہ چھالا ہوا اشک

    یوں تو معمول ہے اشکوں کی لڑی بن جانا

    جب ذرا دیر سے ٹپکا تو نرالا ہوا اشک

    تہہ میں رہ جاتا تو کنکر کے سوا ہوتا کیا

    آنکھ کی جھیل سے ابھرا تو یہ بالا ہوا اشک

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے