بیکار ہے ہر دور کے انساں کی حقیقت
بیکار ہے ہر دور کے انساں کی حقیقت
پہچان نہیں پاتا وہ ایماں کی حقیقت
الزام لگانے کو سمجھتے ہیں جو نصرت
بیٹھے ہیں چھپا کر وہ گریباں کی حقیقت
ہر دشت میں قسمت نے تمنا کو ہے مارا
آساں نہیں ملتی کبھی امکاں کی حقیقت
دن ہم نے تبسم کے سہارے ہی گزارے
اشکوں سے سنبھالی شب ہجراں کی حقیقت
سوچا کرو ہر بار مدد لینے سے پہلے
کھل جائے نہ تم پر کسی احساں کی حقیقت
خوابوں میں ملاذؔ ان کو اسی طرح پھنسایا
معلوم نہ کر پائے دل و جاں کی حقیقت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.