تجھ سا جہاں میں فتنۂ دوراں نہ تھا کبھی
تجھ سا جہاں میں فتنۂ دوراں نہ تھا کبھی
اس درجہ کوئی دشمن ایماں نہ تھا کبھی
وہ عشرت جنوں کا زمانہ بھی یاد ہے
دامن نہ تھا کبھی تو گریباں نہ تھا کبھی
صحرا کو لے چلی ہے ہمیں وحشت خیال
جیسے ہمارے گھر میں بیاباں نہ تھا کبھی
اکثر وفا پہ اپنی ندامت ہوئی بہت
لیکن میں اس قدر بھی پشیماں نہ تھا کبھی
کچھ یوں سکوت مرگ ہے بحر حیات میں
جیسے یہ وقف موجۂ طوفاں نہ تھا کبھی
راہ وفا میں لٹتا رہا ہے رضاؔ مدام
یہ شخص ورنہ حاتم دوراں نہ تھا کبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.