تمام شہر کی نظریں ہیں اس خزانے پر
تمام شہر کی نظریں ہیں اس خزانے پر
جہاں ہے بیٹھا ہوا سانپ اک دہانے پر
عبث ہے ڈھونڈنا بستی جو میرا مسکن تھی
ہوئی تھی آگ کی بارش مرے ٹھکانے پر
یہ سانس اپنی کہاں ہے کہ دسترس میں رہے
چراغ ہستی ہواؤں کے ہے نشانے پر
ہیں کوششیں کہ بجھے آگ شہر دل کی مگر
ہوا بضد ہے اسے اور بھی جلانے پر
مہیب رات کی کوئی سحر نہیں ہوتی
تو پھر یہ کیسی چمک ہے سیاہ خانے پر
میں داستان سہی حرف حرف سچ لیکن
یقین کرنا پڑے گا مرے فسانے پر
عدو کی چال ہوئی کامیاب کچھ ایسی
لگا ہے خواب میں بھی مجھ کو آزمانے پر
ہوں خاکسار مری خاک خاک دنیا ہے
ملے گی خاک کی سوغات آستانہ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.