Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ارمان مرے کیوں اے ہمدم مٹنے پہ مٹائے جاتے ہیں

ہندی گورکھپوری

ارمان مرے کیوں اے ہمدم مٹنے پہ مٹائے جاتے ہیں

ہندی گورکھپوری

MORE BYہندی گورکھپوری

    ارمان مرے کیوں اے ہمدم مٹنے پہ مٹائے جاتے ہیں

    جو تنکے جل کر راکھ ہوئے اب وہ بھی جلائے جاتے ہیں

    ہم دیدۂ تر سے اشکوں کا دریا سا بہائے جاتے ہیں

    یہ موتی ہیں انمول مگر ہم یوں ہی لٹائے جاتے ہیں

    ہم روتے ہیں وہ ہنستے ہیں ہے پریت کی شاید ریت یہی

    ہم آگ بجھائے جاتے ہیں وہ آگ لگائے جاتے ہیں

    یہ ہستی کیا یہ مستی کیا یہ جینا کیا یہ پینا کیا

    جب ایک گھڑی ہنس لینے پر تا عمر رلائے جاتے ہیں

    آنکھوں کے بہم مل جانے پر اظہار تمنا کون کرے

    کچھ وہ بھی لجائے جاتے ہیں کچھ ہم بھی لجائے جاتے ہیں

    اب اس کا خدا ہی حافظ ہے یہ ڈوبے یا اس پار لگے

    ہم آشا کی طوفانوں میں اک ناؤ بہائے جاتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے