ارمان مرے کیوں اے ہمدم مٹنے پہ مٹائے جاتے ہیں
ارمان مرے کیوں اے ہمدم مٹنے پہ مٹائے جاتے ہیں
جو تنکے جل کر راکھ ہوئے اب وہ بھی جلائے جاتے ہیں
ہم دیدۂ تر سے اشکوں کا دریا سا بہائے جاتے ہیں
یہ موتی ہیں انمول مگر ہم یوں ہی لٹائے جاتے ہیں
ہم روتے ہیں وہ ہنستے ہیں ہے پریت کی شاید ریت یہی
ہم آگ بجھائے جاتے ہیں وہ آگ لگائے جاتے ہیں
یہ ہستی کیا یہ مستی کیا یہ جینا کیا یہ پینا کیا
جب ایک گھڑی ہنس لینے پر تا عمر رلائے جاتے ہیں
آنکھوں کے بہم مل جانے پر اظہار تمنا کون کرے
کچھ وہ بھی لجائے جاتے ہیں کچھ ہم بھی لجائے جاتے ہیں
اب اس کا خدا ہی حافظ ہے یہ ڈوبے یا اس پار لگے
ہم آشا کی طوفانوں میں اک ناؤ بہائے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.