مدتوں میں کہیں سیکھا ہے یہ فریاد کا فن
مدتوں میں کہیں سیکھا ہے یہ فریاد کا فن
اور گھٹا کہتی ہے کاغذ کے لبادے نہ پہن
گھر سے باہر نہ نکل فصل بہار آئی ہے
اپنی مہکار سے جل اٹھے گا مہکا ہوا پن
چاند ڈوبا تو دکھائی نہ دیا سایا بھی
گھل گیا رات کی تاریکی میں شفاف بدن
راستہ روک سکا کون فصیلیں کہ حصار
دشت تک پھیل گیا آب رواں کا دامن
کیا ہوئے اشک جو پت جھڑ میں بہائے میں نے
مل گیا پھر سے درختوں کو لٹایا ہوا دھن
کیا اسے تیز ہوا کا کوئی اندازہ نہیں
جس نے دیوار سمجھ رکھی ہے اپنی چلمن
فاصلے دونوں طرف کون بتائے لیکن
دشت والوں کے لیے دور ہے دریا کہ گگن
سایۂ گل کو ترستے ہیں زمانے والے
اور مری راہ میں حائل ہوئی دیوار چمن
نہ سکوں شہر میں پایا نہ اماں صحرا میں
سر پل بیٹھ گئے ہار کے یاران کہن
خوف تعزیر نے شل کر دئے بازو شہزادؔ
رک گیا ایک ہی دیوار سے دریائے سخن
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.