Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مدتوں میں کہیں سیکھا ہے یہ فریاد کا فن

شہزاد احمد

مدتوں میں کہیں سیکھا ہے یہ فریاد کا فن

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    مدتوں میں کہیں سیکھا ہے یہ فریاد کا فن

    اور گھٹا کہتی ہے کاغذ کے لبادے نہ پہن

    گھر سے باہر نہ نکل فصل بہار آئی ہے

    اپنی مہکار سے جل اٹھے گا مہکا ہوا پن

    چاند ڈوبا تو دکھائی نہ دیا سایا بھی

    گھل گیا رات کی تاریکی میں شفاف بدن

    راستہ روک سکا کون فصیلیں کہ حصار

    دشت تک پھیل گیا آب رواں کا دامن

    کیا ہوئے اشک جو پت جھڑ میں بہائے میں نے

    مل گیا پھر سے درختوں کو لٹایا ہوا دھن

    کیا اسے تیز ہوا کا کوئی اندازہ نہیں

    جس نے دیوار سمجھ رکھی ہے اپنی چلمن

    فاصلے دونوں طرف کون بتائے لیکن

    دشت والوں کے لیے دور ہے دریا کہ گگن

    سایۂ گل کو ترستے ہیں زمانے والے

    اور مری راہ میں حائل ہوئی دیوار چمن

    نہ سکوں شہر میں پایا نہ اماں صحرا میں

    سر پل بیٹھ گئے ہار کے یاران کہن

    خوف تعزیر نے شل کر دئے بازو شہزادؔ

    رک گیا ایک ہی دیوار سے دریائے سخن

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے