بے خبر درد محبت سے ہے وہ یار ہنوز
بے خبر درد محبت سے ہے وہ یار ہنوز
دکھ سے دل دینے کے واقف نہیں دلدار ہنوز
رحم سرگشتگی میری پہ اسے کیا آوے
نہیں گلیوں میں کٹی اس کو شب تار ہنوز
نہ ابھی قطرۂ اشک اس کی مژہ تک آیا
نہ گھسا اس کے گریباں کا کوئی تار ہنوز
آپ نالاں ہو تو دیوے مری فریاد کی داد
سو تو وہ گل ہی نہیں بلبل گل زار ہنوز
کیوں نہ بھاوے اسے قیمت شکنی سوداؔ کی
جنس دل اپنی تو ڈالی نہیں بازار ہنوز
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.