یار آزردہ ہوا رات جو مے نوشی میں
یار آزردہ ہوا رات جو مے نوشی میں
کیا ہوا ہم سے خدا جانئے بے ہوشی میں
رہ گیا ہے مہ نو عید کا کس کے پیارے
کھول کر ہاتھ تمنائے ہم آغوشی میں
بات آوے نہ تو چپ رہ کہ گماں کے نزدیک
سو طرح کا ہے سخن پردۂ خاموشی میں
بھولنا ہم کو نہیں شرط مروت کہ ہمیں
یاد تیری ہے دو عالم کی فراموشی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.