وفا کا نشاں سچ کا معیار ہیں ہم
وفا کا نشاں سچ کا معیار ہیں ہم
مہ خوں سر مطلع دار ہیں ہم
جو رکھتے ہیں گرم فغاں بے بسوں کو
انہی سرد جذبوں کا اظہار ہیں ہم
گرفتار خود جس میں حسن ازل ہے
اسی کرب کے آئنہ دار ہیں ہم
اندھیروں کے جنگل میں ہیں پا شکستہ
مگر عازم شہر انوار ہیں ہم
جو عنوان تسلیم و تعظیم ٹھہرے
وہ کردار تمثیل پندار ہیں ہم
سر راہ دل ہاتھ پھیلائے کب سے
ترے منتظر مثل اشجار ہیں ہم
ہمارا مقدر ہے شام غریباں
کہ صبح طرب کے عزادار ہیں ہم
دیار حقائق کو جائیں تو کیسے
اسیران زندان افکار ہیں ہم
فضا دیکھ کر کہر آلود تائبؔ
خلاف طبیعت شرربار ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.