ہے مریض غم پریشاں چارہ گر محتاط ہے
ہے مریض غم پریشاں چارہ گر محتاط ہے
جانتا ہے وہ علاج غم مگر محتاط ہے
اب ہمارے درمیاں مجبوریاں ہیں اس قدر
میں ادھر محتاط ہوں اور وہ ادھر محتاط ہے
احتیاطاً آپ ہیں محتاط سو شکوہ نہیں
ہاں مگر یہ کیا کہ ہم سے شہر بھر محتاط ہے
اول اول تو بہت تھی آرزوئے اندمال
اب مسیحاؤں سے بھی زخم جگر محتاط ہے
پہلے قرطاس و قلم کی کوئی حاجت ہی نہ تھی
بات کیسے ہو کہ اب ان کی نظر محتاط ہے
بام پر اک روز آنے سے وہ افسانے بنے
چودھویں کی شب میں بھی میرا قمر محتاط ہے
پارسا لوگوں کے نام اس کو زبانی یاد ہیں
بول سکتا ہے ترا اظہرؔ مگر محتاط ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.