Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہے مریض غم پریشاں چارہ گر محتاط ہے

نعمان اظہر مصباحی

ہے مریض غم پریشاں چارہ گر محتاط ہے

نعمان اظہر مصباحی

MORE BYنعمان اظہر مصباحی

    ہے مریض غم پریشاں چارہ گر محتاط ہے

    جانتا ہے وہ علاج غم مگر محتاط ہے

    اب ہمارے درمیاں مجبوریاں ہیں اس قدر

    میں ادھر محتاط ہوں اور وہ ادھر محتاط ہے

    احتیاطاً آپ ہیں محتاط سو شکوہ نہیں

    ہاں مگر یہ کیا کہ ہم سے شہر بھر محتاط ہے

    اول اول تو بہت تھی آرزوئے اندمال

    اب مسیحاؤں سے بھی زخم جگر محتاط ہے

    پہلے قرطاس و قلم کی کوئی حاجت ہی نہ تھی

    بات کیسے ہو کہ اب ان کی نظر محتاط ہے

    بام پر اک روز آنے سے وہ افسانے بنے

    چودھویں کی شب میں بھی میرا قمر محتاط ہے

    پارسا لوگوں کے نام اس کو زبانی یاد ہیں

    بول سکتا ہے ترا اظہرؔ مگر محتاط ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے